پیرس،26؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں یورپی یونین میں اصلاحات کے حوالے سے اپنی تجاویز منگل کے روز پیش کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ صدر امانویل کا یہ اقدام جرمنی میں چانسلر انگیلا میرکل کی انتخابی فتح کے بعد سامنے آ رہا ہے۔جرمنی میں ہونے والے عام انتخابات میں گو کہ انگیلا میرکل چوتھی مدت کے لیے چانسلر منتخب ہو گئی ہیں، تاہم ان کی جماعت کی کارکردگی سن 1949 کے بعد سب سے بری رہی۔ ان انتخابات میں یورپ اور مہاجرین مخالف جرمن جماعت اے ایف ڈی ماضی کے مقابلے میں کہیں بہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے ملک کی تیسری سب سے بڑی سیاسی قوت بن گئی ہے۔جرمنی اور فرانس روایتی طور پر یورپی یونین کی ’ڈرائیونگ فورس‘ قرار دیے جاتے ہیں اور ان دونوں ممالک کی جانب سے یورپی یونین کی رکن ریاستوں کے مابین زیادہ قریب اور انضمام پر زور دیا جاتا ہے۔فرانسیسی صدر ماکروں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ اس بلاک کی مضبوطی کے لیے اس میں بنیادی نوعیت کی اصلاحات کے لیے کوشش کریں گے۔ماکروں اس سے قبل یورپی یونین کے لیے وزیرخزانہ اور یورو زون بجٹ کی تجاویز دے چکے ہیں اور ان تجاویز پر فرانسیسی پارلیمان میں ووٹنگ بھی ہونے کو ہے۔جرمن انتخابی نتائج سے پہلے بھی برلن حکومت کی جانب سے ماکروں کے ان خیالات پر تنقید کی گئی تھی، تاہم اب چانسلر میرکل کم زور برتری کی وجہ سے حکومت سازی کے لیے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات پر مجبور ہو چکی ہیں۔ماکروں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی یک جہتی کے لیے اسے زیادہ جمہوری بنانے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں یورپ بھر میں عوامی مذاکرے ہونا چاہیءں۔ایتھنز میں رواں ماہ گفت گو کے دوران ماکروں نے کہا تھا کہ اس طرح کے مباحث جمہوری بھی ہوں گے اور ان کے ریفرنڈم جیسے منفی یا غیرمتوقع نتائج سے بھی بچا جا سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ میں عوامیت پسندی کے انسداد کے لیے یہ موثر ہتھیار ثابت ہو گا۔یہ بات اہم ہے کہ صدر ماکروں کی جانب سے یورپی یونین کے لیے وزیرخزانہ اور یورپ بھر میں جمہوری مباحث کی تجاویز کی حمایت یورپی کمیشن کے صدر ڑاں کلود ینکر نے بھی کی تھی۔